ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کانگریس تبدیلیوں کو لے کر سنجیدہ نہیں - پارٹی نے ہر ہار کو مقدر مان لیا ہے؛ سینئر کانگریسی لیڈر کپل سبل نے قیادت پر پھر اٹھائے سوال

کانگریس تبدیلیوں کو لے کر سنجیدہ نہیں - پارٹی نے ہر ہار کو مقدر مان لیا ہے؛ سینئر کانگریسی لیڈر کپل سبل نے قیادت پر پھر اٹھائے سوال

Tue, 17 Nov 2020 10:10:26    S.O. News Service

نئی دہلی،17؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس پارٹی کے سینئررہنما کپل سبل نے بہاراسمبلی انتخابات اوردیگر ریاستوں میں ہوئے ضمنی انتخابات میں پارٹی کے خراب مظاہرہ کے مدنظر کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ اب لوگ کانگریس کو ایک مؤثرمتبادل نہیں مان رہے ہیں -

انڈین ایکسپریس کو دیے ایک انٹرویو میں سبل نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی قیادت پارٹی کے مسائل کا حل نہیں کر پا رہی ہے-انہوں نے کہاکہ کانگریس کو اس کودرپیش پریشانیاں پتہ ہیں اور وہ اس کا حل بھی جانتی ہے لیکن وہ ان کو اپنانے سے کترا رہی ہے - کانگریس کو اپنی پریشانیاں اور اس کے حل کے بارے میں پتہ ہے،پر وہ انہیں حل کرنے کو تیار نہیں ہیں -

انہوں نے کہاکہ ہم میں سے کچھ لوگوں نے آواز اٹھائی ہے کہ کانگریس کو صحیح راہ پر آگے لے جانے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے- ہماری سننے کے بجائے انہوں نے (قیادت)ہماری بات ان سنی کر دی- اس کے نتائج ہم سب کے سامنے ہیں - صرف بہار میں ہی نہیں بلکہ ملک کے لوگ، جہاں کہیں بھی ضمنی انتخاب ہوئے ہیں، وہاں لوگوں نے کانگریس کو ایک مؤثر متبادل نہیں مانا- سبل نے کہا کہ خوداحتسابی کاوقت اب ختم ہو گیا ہے-

انہوں نے کہاکہ کانگریس ورکنگ کمیٹی(سی ڈبلیوسی)کا حصہ رہے میرے ایک معاون نے کانگریس کے اندر خوداحتسابی اور غور وفکر کی بات کی تھی- اگر 6 سالوں میں کانگریس نے خوداحتسابی نہیں کی تو اب اس کی امید کیسے کریں؟ ہمیں کانگریس کی کمزوریاں پتہ ہیں - ہمیں پتہ ہے کہ تنظیمی طور پر کیا پریشانیاں ہیں؟ ہمارے پاس اس کا حل بھی ہے- کانگریس پارٹی بھی اس کا حل جانتی ہے لیکن وہ ان کو اپنانے سے کتراتی ہے- اگر وہ ایسا کرتی رہے گی تو گراف یوں ہی گرتا رہے گا- کانگریس کو بہادر بن کر انہیں پہچاننا ہوگا-سبل سے جب یہ پوچھا گیا کہ جب کانگریس کو مسائل کاحل پتہ ہے تو پارٹی کی اعلیٰ قیادت اسے اپنانے سے کیوں ہچکتی ہے؟

اس پر انہوں نے کہاکہ سی ڈبلیوسی ایک نامزدادارہ ہے- سی ڈبلیوسی کو پارٹی کے آئین کے مطابق جمہوری بنایا جانا ضروری ہے، جو پارٹی کے آئینی اہتماموں میں مضمرہوتا ہے- آپ نامزد ممبروں سے یہ سوال اٹھانے کی امید نہیں کر سکتے کہ آخر کانگریس پارٹی انتخاب در انتخاب کمزور کیوں ہوتی جا رہی ہے-سبل نے کہاکہ کانگریس گجرات کے ضمنی انتخابات میں سبھی آٹھوں سیٹیں ہار گئی- گجرات میں ہمارے 3/ امیدواروں کی ضمانت ضبط ہو گئی-

اتر پردیش کے ضمنی انتخاب میں 7 سیٹوں پر پارٹی کے امیدواروں کو 2 فیصدی سے بھی کم ووٹ ملے- یہاں تک کہ مدھیہ پردیش میں 28 سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب میں بھی پارٹی کا خراب مظاہرہ رہا- یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کانگریس کی قیادت ایک اور ہار کونارمل مان رہی ہے؟اس پر سبل نے کہاکہ مجھے نہیں پتہ، میں صرف اپنی بات کر رہا ہوں - میں نے پارٹی قیادت کو مجھے کچھ کہتے نہیں سنا- مجھ تک صرف قیادت کے آس پاس کے لوگوں کی آواز پہنچتی ہے-

بہار میں حال ہی میں ہوئے اسمبلی انتخاب اور کچھ ریاستوں میں ہوئے ضمنی انتخابات میں کانگریس پارٹی کے مظاہرہ پر اب تک پارٹی قیادت کی رائے سامنے نہیں آئی ہے- شاید انہیں سب ٹھیک لگ رہا ہے اور اسے معمول مانا جا رہا ہے-یہ پوچھے جانے پر کہ کیا پارٹی کے اندرجمہوری انتخاب کانگریس کے لیے ضروری ہے-اس پر سبل نے کہاکہ جب سے آئی ٹی انقلاب رونما ہوا ہے، انتخاب صدارتی انتخاب میں تبدیل ہو گئے ہیں - اگر ہم اپنی کمیوں کو نہیں پہچان پا رہے ہیں تو انتخابی عمل کے مطلوبہ نتائج نہیں آئیں گے-نامزدگی کے ذریعہ انتخاب سے مطلوبہ نتیجے نہیں آئیں گے- نتیجہ صرف وقت، بھروسہ،غوروخوض کے طریقے میں تبدیلی اور ہماری آئیڈیالوجی کو قبول کیے جانے کے ساتھ آئیں گے-

سبل نے کہا کہ ہر تنظیم میں ملک کے سیاسی حقائق کو سمجھنے والے تجربہ کار لوگوں کے ساتھ مکالمہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے- ایسے لوگ جو جانتے ہوں کہ میڈیا میں کیا اور کیسے اظہارکرنا ہے، لوگ جو جانتے ہوں کہ لوگ انہیں کیسے سنیں -انہوں نے گٹھ بندھن کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اب لوگوں سے ہمارے ساتھ جڑنے کی اور امید نہیں کر سکتے- ہم اب اس طرح کے نہیں ہیں، جو پہلے ہوا کرتے تھے-

بتا دیں کہ کپل سبل کانگریس پارٹی کے ان 23رہنماؤں میں سے ایک ہیں،جنہوں نے پارٹی صدر سونیا گاندھی کو خط لکھ کر پارٹی میں تبدیلی لانے، جوابدہی طے کرنے، طے شدہ ضابطوں کو مضبوط بنانے اور ہار کا صحیح تجزیہ کرنے کی مانگ کی تھی-اس خط کے بارے میں پوچھنے پر سبل نے کہاکہ اس خط کو لکھے جانے کے بعد سے اب تک پارٹی قیادت سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے اور پارٹی قیادت کی جانب سے بات چیت کے لیے کوئی کوشش بھی نہیں نظر آرہی ہے-

سبل نے کہاکہ میرے لیے اپنی رائے کے اظہار کا کوئی منچ بھی نہیں ہے تو میں اپنی بات عوامی طور پر رکھنے کے لیے مجبور ہوں - میں ایک کانگریسی ہوں اور ہمیشہ رہوں گا اور مجھے امید ہے کہ کانگریس اقتدار کے اس موجودہ خاکے کا متبادل فراہم کرے گی، جس نے ملک کی تمام قدروں کو برباد کر دیا ہے-


Share: